کیا شہر ہیں مکہ اور مدینہ بھی | لاکھوں دلوں میں بسنے والے دو شہروں کے احوال

Makkah Madina cities of love

0 20

کیا شہر ہیں مکہ اور مدینہ بھی
آج تو خیر یہ جدید شہروں کے کان کاٹنے لگے…
کبھی مگر یہ محض مٹی، پتھر اور گارے کے شہر تھے۔
مگر تب بھی اور آج بھی یہ شہر کروڑوں لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ کوئی کہیں بھی پہنچ جائے،وہ ایک بار یہاں پہنچنا چاہتا ہے۔ جو ایک بار پہنچ جائے پھر ساری عمر بن پانی کی مچھلی کے مانند تڑپتا رہتا ہے۔
کوئی لندن میں ہو ، یا نیویارک میں، سڈنی میں ہو یا سپین میں… کوئی جوانی میں ہو یا بڑھاپے میں یعنی کوئی کہیں بھی پہنچ جائے…. وہ کسی طور ،بہرحال طور یہاں پہنچنا چاہتا ہے۔

کیا شہر ہیں مکہ اور مدینہ بھی یہاں نہ بیچز ہیں نہ گلستاں.  یہاں کی نہ زمین انوکھی ہے نہ آسماں.  پھر بھی اس مٹی کی مقناطیسی کشش گویا مسلمانوں کے دلوں میں ودیعت کر دی گئی۔ وہ بھی ہیں، جنھوں نے اپنا مقصد زیست ہی یہاں پہنچنا بنا لیا. دولتمند تو یہاں جاتے ہی ہیں مگر وہ بھی یہاں پہنچ جاتے ہیں جو روز کے نوالے کو ترستے ہیں۔ کتنی ایسی کہانیاں ہیں کہ دوسروں کے گھروں میں پونچھا پھیرنے والی یا کوئی پھیری والا،اپنے روز کے چند لقمے کم کرکے یا اپنی زیست کی بہت سی بنیادی ضروریات سے دست بردار ہوکے زندگی کے آخر میں بالآخر یہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگئے… اور پھر ایسے شاداں دکھائی دئیے کہ گویا ان کی زندگی ٹھکانے آ لگی ہو۔

کیا شہر ہیں مکہ اور مدینہ بھی | لاکھوں دلوں میں بسنے والے دو شہروں کے احوال
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے

یہ شہر نہیں… اہل دل کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور لبوں کی پیاس ہیں۔ دید کو کچھ دیر ہو جائے تو دل تڑپنے اور آنکھیں برسنے لگتی ہیں۔ان شہروں کی طلب روح کے کہیں اندر سے اٹھتی ہے اور کبھی تو یوں لگتا ہے،جیسے انھیں نہ دیکھنا وجود کے کسی حصے کی عدم تکمیل ہے گویا، یعنی انھیں دیکھے بغیر وجود ادھورے اور روح بے چین رہتے ہیں۔ جو جاتے ہیں،وہ تو جاتے ہی ہیں، لوگ تو ان شہروں کو جانے والوں کو بھی رشک اور اشک سے دیکھتے ہیں۔

یہ دنیا کا وہ واحد سفر ہے،جہاں سب فقیر بننے کیلے تڑپا کرتے ہیں۔ اس فقیری پر لوگ بادشاہی وارنے کو تیار پھرتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسی ہوک اٹھتی ہے کہ پھر اس کی درد کی کوئی دوا نہیں ملتی اور ملے بھی کیسے کہ دنیا کی کوئی چیز اہل دل کو ان شہروں متبادل نہیں لگتی۔لگے بھی کیسے بھلا کبھی کچھ شہر محبوب مکہ و مدینہ کی پرچھائیں کو بھی پہنچ سکتا ہے؟

تحریر : یوسف سراج

توحید کے ہم ہیں رکھوالے اور پاک حرم کے خادم ہیں | ارض حجاز سے محبت پر لکھی گئی ایک نظم

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.