حشر کے روز میرے دل کو یوں قرار ائے نظر اٹھے تو میسر تیرا دیدار آئے میں زخم زخم سا پہنچوں جو روزِ محشر میں لبوں پہ نعت سجے اشک
naat poetry in urdu two lines
آپ کی ہی رحمت کا دو جہاں پہ سایہ ہے آپ کی اداؤں کو حرز جاں بنایا ہے آپ کی دعاؤں سے دل میں نور پایا ہے اور اس طرح
نہ آیا ہے نہ آئے گا امام الانبیاء جیسابنایا ہی نہیں رب نے جہاں میں مصطفی جیسا نہ ملتی ہیں کہیں والیل جیسی زلفیں دنیا میںنہ پایا ہے کوئی چہرہ
چل مدینے چلیں چل مدینے چلیں لوٹنے رحمتوں کے خزینے چلیں دیکھ کر سبز گنبد کو اے دوستو ٹھنڈے کرنے یہ دل اور سینے چلیں
قلم میں جب بھی اُٹھاؤں نبی کی نعت کہوں درود لب پہ سجاؤں نبیؐ کی نعت کہوں صدائیں قلب و جگر کی زباں پہ لے آؤں خدا کی حمد سناؤں،
تاجدارِ حرم، رب کا پیار آپ ہیں دلنشیں ، بہتریں ، باوقار آپ ہیں کتنے دلکش ، حسیں ، مہ جبیں ، نازنیں ہاں ! خدا کی قسم ، شاندار
بے نظیر و پاکباز و معتبر آمنہ کے لعل سب کے راہبر چاند چہرہ، گیسوئے عنبر، شمیم مشک افشاں، دھوم جن کی ہر نگر ظلمتیں چھائی ہوئی تھیں چارسو اُنؐ
میرے خدا کا جو لطف و کرم نہیں ہوتا میں آج واصفِ شاہ امم نہیں ہوتا نبی کے عشق میں دنیا ہمیں ستاتی ہے نبی سے عشق ہمارا بھی کم
مدت سے ہے یہ بات دل بیقرار میں ہو زندگی کی شام نبی کے دیار میں واللہ جو دلکشی ہے محمد کے شہر میں وہ دلکشی نہیں ہے کسی لالہ
وہ سحر مبارک ہے ، جو ہوئی مدینے میں مستقل ہی رہ جاؤں ، میں یونہی مدینے میں ہے یہی تمنا بسں ، کہ رہوں مدینہ میں قبر بھی بنے
Load More










