ورچوئل رئیلٹی کیا ہے؟ کوئی فتنہ یا انسانی ایجادات کا تسلسل؟

Is virtual reality good | science and technology articles

0 93
جب سے فیس بک نے اپنا نام میٹا میں تبدیل کیا ہر طرف یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ورچوئل رئیلٹی کیا ہے؟ اور کیا یہ میٹا ورس  انسان کے لئے مفید ہے یا نقصان دہ۔ کیا یہ فتنہ ہے جس میں مسلمانوں کی ازمائش چھپی ہے یا یہ انسانی دماغ کی ایک تخلیق ہے جو انسانی زندگی کو مزید خوبصورت بنانے جا رہی ہے ۔ تو آئیے آج اس نئی ابھرتی اور ہمارئ زندگی میں قدم رکھتی ایجاد پر غور کرتے ہیں ۔
جس طرح آج سے سو سال پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا انسان دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے ہوئے انسان سے ڈائرکٹ گپ شپ کر سکتا ہے (آڈیو وڈیو کال )۔ یا ایک تصویر پوری دنیا کے اندر چند سیکنڈوں میں گھمائی جا سکتی ہے بالکل اسی طرح آج کے انسان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ مستقبل قریب میں میٹا ورس یا ورچوئل ریلیٹی کی دنیا کیسی ہو گی.

میٹا ورس کو جھٹلانا ممکن نہیں

جس طرح آج سے پچاس سال قبل کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھر میں ایک ٹیبل کرسی پر بیٹھے بیٹھے ایک دن میں سو ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ بالکل اسی طرح آج کا انسان یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ مستقبل قریب میں ایک انسان اپنے کمرے میں رہتے ہوئے ساری دنیا میں جہاں مرضی چاہے گھوم پھر کر شام کو واپس آ سکتا ہے.
میٹا ورس یا ورچوئل رئیلٹی موجود دور میں آنے والی ایک ایسی حقیقت ہے جسے جھٹلانا ممکن نہیں۔ البتہ اسے دجال کہہ کر مسلمانوں کو اس حقیقت سے چھپایا اور ڈرایا ضرور جا سکتا ہے….! لیکن ہماری نوجوان نسل پھر بھی اس میٹا ورس کو دیکھ کر ہماری بات نہیں مانے گی۔ جس طرح آج اسلام پسند طبقے کی طرف سے موبائل کیمرہ وڈیو حرام قرار دینے کے باوجود نوجوان نسل نہیں مانتی.
ہر نئی ایجاد اپنے ساتھ شر بھی لاتی ہے اور خیر بھی. ہم چونکہ مسلمان ہیں اس لیے اس ایجاد کے شر سے بچنے کے لیے ہمیں اس میں سے خیر تلاش کرنی ضروری ہے اور خیر تبھی تلاش ہو گی جب آپ اس نئی ایجاد کی سائنس سمجھتے ہوں گے۔ یعنی اسے حرام یا دجال نہیں سمجھتے ہوں گے.

کل تک گھر میں بیٹھ کر خانہ کعبہ کا نظارہ ممکن نہیں تھا۔۔۔ اب ممکن ہے

آج اگر آپ موبائل پر فیس بک استعمال کرتے ہیں اور یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی کہ آپ کے حلقہ احباب اسلام پسند ہیں اور آپ اس فیس بک یا موبائل فون کے شر میں سے خیر نکالنے کے لیے یہاں موجود ہیں. جب کہ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسی موبائل فون کے ذریعے ہزاروں نوجوانوں نے گندی فحش فلمیں دیکھ کر اپنا حال اور مستقبل خراب کر لیا.
تو میٹا ورس کی دنیا بھی ایسی ہو گی. آپ چاہیں تو اس کے ذریعے امریکہ برطانیہ کے ساحلوں پر گھوم کر اپنی آنکھوں سے ننگی عورتیں دیکھتے رہیں۔ اور چاہیں تو اسی میٹا ورس کے ذریعے بیت اللہ اور مسجد نبوی میں گھومتے رہیں. جہاں آپ کو امریکہ برطانیہ میں گھومنے پھرنے سے نئی معلومات اور مشاہدات حاصل ہوں گے اسی طرح آپ بیت اللہ کو دیکھ کر سبحان اللہ کہیں گے اور اپنے ایمان میں اضافہ محسوس کریں گے. جیسے آج سے سو سال قبل گھر میں بیٹھے کسی نوجوان کے لیے امریکہ برطانیہ کی عورتوں کی  ننگی ویڈیو دیکھنا ممکن نہیں تھا بالکل اسی طرح کسی مسلمان کے لیے اپنے محلے کی مسجد میں بیٹھ کر خانہ کعبہ کا نظارہ بھی ممکن نہیں تھا.

Labbaik VR

میٹا ورس کے حوالے سے جس نوعیت کا کام ہو رہا ہے اس کے مطابق انسان اپنے کمرے میں ایک مشین کے اوپر کھڑے ہو کر اور اپنے کانوں آنکھوں پر ایک کھوپہ چڑھا کر ٹانگیں چلاتا رہے گا۔ اور اپنی من پسند جگہ پر گھومتا پھرتا محسوس کرے گا. اس حوالے سے کافی وڈیوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں. لیکن میں نے جو وڈیو شئیر کی اس کے مطابق آپ وہ کھوپہ (Haj training simulator) چڑھا کر  اپنے آپ کو خانہ کعبہ میں محسوس کریں گے. اور دائیں بائیں سر گھمانے سے آپ کو دائیں بائیں کے مناظر نظر آتے جائیں گے لیکن آپ ہوں گے اپنے گھر میں ہی. یہ انسٹرومنٹ اور سافٹوئیر لبیک وی آر کہلاتا ہے۔
ورچوئل رئیلٹی
جس طرح موبائل-فون پر خانہ کعبہ کی وڈیو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں… آنے والے دنوں میں آپ چل پھر کر خانہ کعبہ کے اطراف کو دیکھ کر خوشی محسوس کریں گے. لیکن عمرہ یا حج کا اجر لینے کے لئے آپ کو ویزہ بنوا کر سعودیہ عرب ہی جانا پڑے گا.

آپ ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے گھر بیٹھے عمرہ نہیں کر سکتے

یعنی اگر اچانک بیٹری ڈاون ہو جائے یا آپ مقررہ وقت سے زیادہ دیر وہاں رہنا چاہیں تو اچانک مشین بند ہو جائے گی اور آپ خانہ کعبہ کی بجائے اپنے گھر میں ہی خود کو محسوس کریں گے. تو ظاہری بات ہے کہ اس کے ذریعے آپ عمرہ یا حج کا اجر حاصل نہیں کر سکتے. صرف اور صرف اتنا کہ جس طرح موبائل-فون پر خانہ کعبہ کی وڈیو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں اور سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں… آنے والے دنوں میں آپ چل پھر کر خانہ کعبہ کے اطراف کو دیکھ کر خوشی محسوس کریں گے. لیکن عمرہ یا حج کا اجر لینے کے لئے آپ کو ویزہ بنوا کر سعودیہ عرب ہی جانا پڑے گا.
موبائل-فون کی طرح میٹا ورس کا ہماری عام زندگی پر کیا اثر پڑے گا اور کتنا اثر پڑے گا یہ وقت بتائے گا بہرحال اتنا سمجھ آتا ہے کہ ساری دنیا گھوم پھر کر آنے کے باوجود آپ کے جسم کی بھوک اس سفر کے ذریعے سے نہیں اترے گی۔ یعنی آپ کسی دوکان پر دودھ سبزی گوشت لینے کے لئے آنے والے دنوں میں روبوٹ تو استعمال کر سکتے ہیں لیکن میٹا ورس اور ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے کسی بازار میں کھڑے ہو کر (حقیقت میں اپنے کمرے میں بیٹھ کر ) ایک پیزا بھی نہیں کھا سکتے. واللہ اعلم بالصواب.

 

اگر آپ مزید سائنس و ٹیکنالوجی کے متعلق پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.