انڈین ففتھ جنریشن وار کے شکار مایوس پاکستانی نوجوان

?What is fifth generation warfare

0 27

1962 کی 31 روزہ انڈیا چائنہ اکسائی چن جنگ کے بعد انڈیا نے جنریشن وار کا فیصلہ کیا. انڈیا کی جانب سے اس ففتھ جنریشن وار کا رخ چائنہ اور پاکستان تھا.
اس وقت انڈین خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینا لائسسز ونگ یعنی را کا قیام نا ہوا تھا تاہم اس وقت کے وزیر اعظم پنڈ جواہر لال نہرو نے اپنی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ میٹننگ کے بعد فیصلہ کیا کے اپنے دشمنوں سے ففتھ جنریشن وار لڑی جائے تاکہ دشمن ملک کی عوام کے ذہنوں پہ قبضہ جما کر عملی جنگ کی تیاری کی جا سکے۔
اس منصوبے پہ کام تیز ہوا اور سب سے زیادہ کام انڈین میڈیا نے کیا۔
اس نے پاکستان اور چائنہ کی عوام خاص کر نوجوان نسل میں انہی کے ملکوں کے خلاف ان کے ذہنوں میں زہر بھرنا شروع کیا۔
ڈرامے اور فلمیں بنانا شروع کیں خود کو مظلوم اور ان دونوں ملکوں کے سربراہان و افواج کو ظالم دکھایا تاکہ ان ملکوں کی عوام کو انہی کے خلاف کیا جا سکے۔
انڈین ایجنسی را نے 1968 میں اپنے قیام کے بعد نوجوان نسل میں ہندوانہ تہذیب،نشہ اور گن کلچر کو پروان چڑھانے کا خصوصی اہتمام کیا خاص کر پاکستان کے پسماندہ صوبے مشرقی پاکستان یعنی بنگلہ دیش میں کام تیز کیا اور پاکستانی فوج کے مد مقابل 4 لاکھ بنگالیوں کو مکتی باہنی کے طور پہ تیار کیا
بنگلہ دیش میں انڈیا کی جنریشن وار خوب کامیاب رہی اور آخر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔

ففتھ جنریشن وار میں فتح کو شکشت اور شکشت کو فتح میں بدلا جاتا ہے پراپیگنڈا کے طور پہ

اپنی ہی عوام اپنی ہی افواج کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی اور یوں انڈیا نے 4 لاکھ مکتی باہنی کے تربیت یافتہ بلوائیوں کیساتھ اپنی ڈھائی لاکھ فوج اتاری آخرکار 16 دسمبر 1971 کا دن آیا اور سقوط ڈھاکہ ہوا اور پاک فوج نے 1948,1965 کی انڈیا کے خلاف منہ توڑ جنگوں کے بعد انڈیا کے اگے ہتھیار ڈالے۔
جنگ میں فتح و شکشت کوئی نئی بات نہیں۔  یہ جنگ کا حصہ ہے مگر ففتھ جنریشن وار میں فتح کو شکشت اور شکشت کو فتح میں بدلا جاتا ہے پراپیگنڈا کے طور پہ۔ سو انڈیا نے سارا دھیان ففتھ جنریشن وار پہ دیا اور آج دن تک پاکستانی قوم کو ایک دھوکے میں رکھا کہ مشرقی پاکستان میں پاک فوج کے 90 ہزار فوجی قید ہوئے تھے۔
میں ہمیشہ کی طرح یہ بات کہتا اور لکھتا ہوں کہ جھوٹ بولنے، لکھنے والے پہ رب کی لعنت۔
حدیث کا مفہوم ہے کہ انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق آگے پھیلا دے۔
جھوٹے شحض کی اس جہاں میں بھی ذلت ہوتی ہے۔  اور جھوٹ نا تو فائدہ دیتا ہے نا عزت۔

بطور مسلمان ہمیشہ وہ بات کرنی چائیے جس کا بہت زیادہ علم ہو۔
میں الحمدللہ ہمیشہ کی طرح اب بھی ہڈ بیتی لکھونگا جو کہ میرے والد نے کئی بار سنائی اور جس کے گواہ اب بھی میرے والد کے ساتھی اس جہاں میں حیات ہیں۔

دنیا کی کوئی طاقت ثابت کرے کہ کبھی بھی بنگلہ دیش میں 90 ہزار تعداد میں پاک فوج کے جوان موجود تھے

1971 کی جنگ میں راقم کے والد نائب صوبیدار محمد محمود بھٹی رحمتہ اللہ نے بطور نائیک، آرمورر 46 ای ایم ای بٹالین حصہ لیا۔
میرے والد کی عمر اس وقت محض 21 سال تھی اور تقریباً 5 سال سروس ہو چکی تھی( اس وقت شناختی کارڈ کا سسٹم نہ تھا)
میرے والد نے 71 جنگ کی پوری روداد سنائی جس کے گواہان ان کے ساتھ قید ہوئے ساتھی ہیں جن میں سے اکثر ابھی حیات ہیں۔
دنیا کی کوئی طاقت ثابت کرے کہ کبھی بھی بنگلہ دیش میں 90 ہزار تعداد میں پاک فوج کے جوان موجود تھے۔  حتی کہ انڈیا یہ بات آج دن تک ثابت نا کر سکا کہ بنگلہ میں 90 ہزار ہمارے فوجی تھے جو اس نے قید کئے تھے۔  1971 میں ایسٹرن ٹھیٹر ان کمان میں کل 38 ہزار پاکستانی فوجی تھے جن میں سے 32 ہزار قید ہوئے تھے اور دو سال سے زیادہ عرصہ انڈین قید کاٹ کر اپنے وطن پہنچ کر پھر اسی پاک فوج کا حصہ بنے تھے۔
میرے والد بتلاتے ہیں کہ سویلین بنگالیوں کے انڈین فوج و مکتی باہنی کے ہاتھوں قتل پہ بار بار کمانڈنگ آفیسرز کی تنبیہہ کے ہتھیار ڈالنے پہ رضا مندی ظاہر کی گئی۔  تاہم اللہ گواہ کہ نا تو کسی نے انڈین فوج سے رحم کی بھیک مانگی نا ہی خاص رعایت مانگی۔

میرے والد نے انڈین جیل میں قرآن مجید پڑھا اور انڈین فوج کی جانب سے مسلمان مذہب چھوڑ کر ہندو ہونے اور بہترین نوکری کیساتھ عورت کی دعوت کو کئی بار ٹھکرایا۔  جس کی نفی میں بارہا تشدد بھی سہنا پڑا حالانکہ جنیوا کنونشن کے تحت جنگی قیدی کو مارا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے دو بار انڈین قید سے بھاگنے کی کوشش کی اور پکڑے جانے پہ رحم کی فریاد نہ کی۔  تاہم  ہندو نے دوران قید دو سال دو ماہ دو دن کی قید میں ظلم کی اخیر کی۔
آج جس کو دیکھو وہ ایک ہی بات بولے گا کہ 71 میں 90 ہزار فوجی قید ہوئے تھے جو کہ تاریخ کا بہت بڑا جھوٹ ہے جسے ففتھ جنریشن وار کے ذریعے ہمارے ذہنوں میں بھرا گیا ہے۔

دشمن کی ففتھ جنریشن وار کا شکار ہم پاکستانی ہوئے ہیں چائینز نہیں

1971 میں مشرقی محاذ بنگلہ دیش میں پاکستانی قوم کے سپاہی کی حیثیت سے انڈین قید کاٹ کر آنے والے پاکستانی فوجی اس قوم سے سوال کرتے ہیں کہ کس اصول کے تحت 32 ہزار فوجیوں کے ساتھ گرفتار ہونے والے دیگر سول اداروں کے لوگوں کو فوجی ظاہر کیا جاتا ہے؟
کیا ہم پاک فوج نے 1948 میں قبائلیوں کیساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر کا علاقہ آزاد کروا کر آزاد کشمیر نہیں  بنوایا ؟
کیا 1965 کی جنگ میں ہم نے دشمن کا غرور خاک میں نہیں ملایا تھا کہ دشمن بھی ہم پاک فوج کے افسروں جوانوں کو سیلوٹ مارنے پہ مجبور ہوا۔  جیسا کہ دنیا میجر عزیز بھٹی شہید کے کارنامے سے واقف ہے؟

71 کے فوجی پوچھتے ہیں کیا ہم نے اپنی جوانیاں انڈین قید میں نا کاٹیں حالانکہ ہمیں عورت اور دولت کی بارہا پیشکش ہوتی رہی؟
کیا ہم نے دوران قید اپنا مذہب تبدیل کیا ؟
کیا ہم میدان جنگ سے بھاگے اگر بھاگتے تو کیا یوں گرفتار ہوئے ہوتے؟
کیا ہم نے قید سے واپس آکر پھر اپنی نوکری پوری نا کی؟
کیا ہم نے قید کے عیوض کوئی خاص مراعات مانگیں یاں گورنمنٹ نے دیں؟
اگر یہ سب کچھ نہیں تو پھر جنریشن وار فئیر کا شکار قوم جان لے کہ ابھی حال ہی میں انڈین پائلٹ ابھی نندن ہماری قید سے جاتے ہی اپنی قوم کا ہیرو بن گیا۔  تو کیا ہم ایک لمبا عرصہ قید کاٹنے کے بعد بھی اپنی ہی قوم کے طعنے نہیں سنتے ہیں؟
کیا رب نے جنگی قیدی ہو جانے والے سپاہی بارے کوئی غضب ناک نوید سنائی ؟
پیارے پاکستانیو!  دشمن کی ففتھ جنریشن وار کا شکار ہم پاکستانی ہوئے ہیں چائینز نہیں۔  لہذہ اپنے محافظوں کو طنز کرنا چھوڑ کر دشمن کی جنریشن وار سے نکلیں اور وہ کام ہم کریں جو ہمارے بڑے نا کر سکیں۔
اس بار ہم ہر میدان میں اپنے ازلی دشمن انڈیا کو نیچا دکھائیں تاکہ ہم اس کو بتا دیں کہ اس کی جنریشن وار ناکام ہم نے کی ہے

تحریر:  غنی محمود قصوری

ووٹ اور منشیات سے قبضے کا منصوبہ ۔۔۔ہندوستان کا مقبوضہ کشمیر پر قبضے کی نئی چال

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.