خاتون کا حلوے والا لباس اور پاکستانی معاشرے کی شدت پسندی

0 34

حلوہ تو پہلے ہی بہت مشہور تھا اب حلوے والا لباس بھی مشہور ہو گیا. کل وطن عزیز میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا. اور وہ یہ کہ ایک خاتون ایک ایسا لباس زیب تن کر کے بازار میں آئیں جس پر عربی رسم الخط میں حلوہ لکھا ہوا تھا. حلوہ کا مطلب اچھا خوبصورت یا خوش شکل ہے اور عربی میں بھی اس کا یہی مفہوم لیا جاتا ہے. اور یہ ایک کپڑے کا برانڈ ہے. لیکن شومئی قسمتی معصوم عوام یہ بات نہ سمجھ سکی اور اس عورت کو گستاخ سمجھ کر اسے جان سے مارنے کے درپے ہو گئی.

بڑی مشکل سے معاملہ سنبھلا اور اس خاتون کی نہ صرف جان بچ گئی بلکہ اس نے بعد میں معافی بھی مانگ لی… لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ کیا ایسی جاہلیت اور اسی شدت پسندی ساری دنیا میں ہوتی ہے یا بس پاکستان میں؟

خاتون کا حلوے والا لباس اور پاکستانی معاشرے کی شدت پسندی
یہ سکرین شاٹ جس انسٹاگرام اکاونٹ سے لیا گیا وہ ابھی تک موجود ہے لیکن وہاں سے یہ والی تصویر ہٹا دی گئی ہے ۔ یعنی اب اس برانڈ کی خرید و فروخت اس کمپنی کے لئے مفید نہیں رہی

سعودی عرب کی بہت ساری ثقافت برصغیر کے لیے حیران کن ہے. لوگ وہاں جاتے ہیں یا وہاں کی باتیں سنتے ہیں تو ہکا بکا رہ جاتے ہیں مثلاً خانہ کعبہ کی طرف پاؤں کر کے سونا، کثرت ازواج، اچانک شادی اور اچانک طلاق اور اسی طرح مقدس سمجھی جانے والی  عربی زبان کا عمومی استعمال

اب برصغیر میں یہ سب باتیں ناپسندیدہ ہیں لیکن اسلام کی نظر میں عام بات ہے . جس کی وجہ سے شدت پسندی یا گستاخی جیسا تاثر ملتا ہے. کتنی عجیب بات کہ زندہ عورت کے جسم کو ڈھانپنے والی عربی عبارت یا آیت گستاخی ہے اور مردہ جسم کو ڈھانپنے والی اور مردہ جسم کے ساتھ بطور کفن مٹی میں دفن والی قرآنی آیت باعث نجات؟

تو بات دراصل یہ ہے کہ جس طرح آپ نے سنا ہو گا کہ موبائل سوشل میڈیا وڈیو وغیرہ کے عام ہو جانے کی وجہ سے کافی تعویز اور قبر والوں کی دوکانداری پر زد پڑی ہے بالکل اسی طرح اب ہر چیز کو اسلامی شدت پسندی کے ساتھ جوڑ کر کسی کو گستاخ کہنا یا اسلام کو بدنام کرنا بھی آسان نہیں اور نہ ہی اب یہ چیز زیادہ عرصہ تک چل سکتی ہے.
اب وقت آ گیا ہے اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے کا… نہ کہ محلے علاقے کی مسجد کے مولوی کی بات سن کر فتوی لگاتے رہنے کا.

بجائے اس بات پر شکر ادا کرنے کے کہ حلوے والا لباس والے اس معاملے پر اس بار  کسی کی جان نہیں گئی، اور تھوڑی سی بدمزگی کے بعد معاملہ سنبھل گیا یعنی شدت پسندی کنٹرول ہوئی…. اس بات پر رولا ڈالا جا رہا ہے کہ شدت پسندی اس ملک سے کبھی ختم نہیں ہو سکتی.

بس اللہ ہی سمجھ عطا فرمائے ہماری مذہبی اور سیاسی محبت میں جکڑی معصوم عوام کو۔

نوٹ ! میں نے  انسٹاگرام اکاونٹ کا لنک اوپن کر کے تصویر کا سکرین شاٹ لیا جو کہ پہلے بھی سوشل میڈیا اور مختلف ویب سایٹس پر موجود ہے ۔۔۔۔ اور اس کے بعد جب وہ لنک دوبارہ اپنی ویب سائیٹ پر لگانے لگا تو پتا چلا یہ تصویر اس لنک سے ڈیلیٹ ہو چکی ہے

تحریر :سلیم اللہ صفدر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.