حرم جو دیکھ آئی ہیں وہ آنکھیں خوبصورت ہیں
حرم کی باتیں کرتی ہیں زبانیں خوبصورت ہیں
ابھی تک بھی تصور میں وہ مکہ ہے مدینہ ہے
حرم کی آنے والی سب ہی یادیں خوبصورت ہیں
آنکھ کی کھاری بوندوں میں اک میٹھا منظر طیبہ کا
قبلہ رو منظر میں بیٹھا ہے ، پیغمبر طیبہ کا
دیکھوں جس بھی سمت نظارے طیبہ ہی کے سارے ہیں
دل والے گھر کی ہر کھڑکی طیبہ کی ، در طیبہ کا
مجھے ہے یاد مدینے کی وہ ہوا اب تک
دل و نظر میں بسی ہے وہی فضا اب تک
مزے مزے سے وہاں پر کھجور کھاتے تھے
نبی کے شہر کی وہ یاد ہے غذا اب تک
نبی کے شہر میں زم زم بھی خوب پیتے تھے
مزہ ملا جو ، نہیں میں بھلا سکا اب تک
میں آنکھیں بند…