اداس شاعریارقم کاشمیری

خاک میں جب ہمیں ملا آئے پھر ہماری خبر بھی کیا آئے | اداس شاعری

خاک میں جب ہمیں ملا آئے پھر ہماری خبر بھی کیا آئے جو بھی ہو گا وہی مقدر ہے کیوں زباں پر کوئی گلا آئے کوئی دیوار جیسا آدمی تھا ہم جسے دردِ دل سنا آئے
خاک میں جب ہمیں ملا آئے پھر ہماری خبر بھی کیا آئے | اداس شاعری

خاک میں جب ہمیں ملا آئے
پھر ہماری خبر بھی کیا آئے

جو بھی ہو گا وہی مقدر ہے
کیوں زباں پر کوئی گلا آئے

کوئی دیوار جیسا آدمی تھا
ہم جسے دردِ دل سنا آئے

تیرے فانی جہان کی الفت
میرے دل میں نہ اے خدا آئے

نیکیاں اب تلک جو ہم نے کی
وہ بھی دریا میں ہم بہا آئے

ان کی بستی میں کیا گئے ارقم
کرچیاں دل کی پھر اٹھا آئے

خاک میں جب ہمیں ملا آئے
پھر ہماری خبر بھی کیا آئے

شاعری : ارقم کاشمیری

اگر آپ مزید اداس شاعری پڑھنا چاہتے ہیں تو یہ لازمی دیکھیں 

If you want to read more sad poetry in Urdu please check

sad poetry urdu | sad poetry urdu 2 line | best sad poetry urdu | sad poetry urdu sms

Shares:
Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *