سنو دنیا والو یہ دل کا فسانہ کہ دنیا میں یہ دل کبھی نہ لگانا نہیں چار دن کا یہاں پہ بھروسہ کہ فردوس ہی بس ہے اپنا ٹھکانا ذرا
سلیم اللہ صفدر
زخمی دل کو سکوں کا سمندر دیا کلمہِ شکر لب سے ہوا جب ادا مجھ کو رب نے یہ کیسا مقدر دیا جو نہیں مانگا وہ بھی عطا کر دیا
اللہ کا کرم ہے یہ اللہ کی عطا و تعز من تشا و تذل من تشا اپنا کوئی کمال کہاں مجھ میں ہے بھلا وہ تعز من تشا و تذل
نیکی سب سے کریں، سب سے پائیں دعا خدمتوں عظمتوں کا چنیں راستہ خدمت خلق سے خوش ہو ربِ جہاں خدمتوں سے ملے راحتِ جاوداں مال، و جاں، وقت کی
آپ کی ہی رحمت کا دو جہاں پہ سایہ ہے آپ کی اداؤں کو حرز جاں بنایا ہے آپ کی دعاؤں سے دل میں نور پایا ہے اور اس طرح
نہیں رہیں گے یہ عدو ،سدا رہیں گی مسجدیںخدا کے نام اور کلام سے سجیں گی مسجدیں جہاں پہ میرے پاک باز بیٹوں کا لہو گرااسی ہی خاک پر دوبارہ
سنو ختم بخاری کا سہانا وقت آیا ہےمگر غم ہے جدائی کا جو ہر اک دل پہ چھایا ہے اکیلے ہو گئے اب ہم مگر نہ بھول پائیں گےوہ دن
فاروق ہمارے ہیں ، حسنین ہمارے ہیںآقا کے صحابہ سب آنکھوں کے ستارے ہیں اسلام بچانے کو قربان یہ جاں کر دیدیکھو کہ ہر اک سازش دشمن کی عیاں کر
میرے رہنما میرے غم مٹامیری ظلمتوں میں دیا جلا میرے رہنما میرے غم مٹامیری ظلمتوں میں دیا جلامجھے منزلوں کا دے راستہمجھے وحشتوں میں دے آسرا میں بھٹک بھٹک کے
اپنے خالق کو منائیں آؤ قربانی کریںسنتِ آقا کو پائیں آؤ قربانی کریں گائے کو منڈی سے لائیں اس کی رسی تھام کرپیار سے پانی دیں اور چارہ کھلائیں خوب
Load More










