زخمی دل کو سکوں کا سمندر دیا کلمہِ شکر لب سے ہوا جب ادا مجھ کو رب نے یہ کیسا مقدر دیا جو نہیں مانگا وہ بھی عطا کر دیا
hamd poem in urdu
اللہ کا کرم ہے یہ اللہ کی عطا و تعز من تشا و تذل من تشا اپنا کوئی کمال کہاں مجھ میں ہے بھلا وہ تعز من تشا و تذل
مشکل کشا ہمارا حاجت رواء ہمارا کوئ نہیں ہے یارب تیرے سوا ہمارا تُو کل جہاں کا خالق تُو کل جہاں کا مالک تُو رازقِ دوعالم رب العُلیٰ ہمارا
اللہ کی محبت کا مزہ کیوں نہیں لیتے دنیا ہی میں جنت کا مزہ کیوں نہیں لیتے یہ نفس پرستی تمہیں برباد کرےگی اللہ کی اطاعت کا مزہ کیوں نہیں
میرا رب تتلیوں کے پر پہ رنگوں کو سجاتا ہے میرا رب جگنوؤں کو روشنی کرنا سکھاتا ہے میرا رب ان خلاؤں کے اندھیروں سے ڈراتا ہے میرا رب چاند
زمانے کی ہر چیز میں جو چھپا ہے وہ نورِ خدا ہے وہ نورِ خدا ہے یہ انسان حیواں چرندے پرندے وہی سبکا معبود سب اسکے بندے
سخن کا آغاز کر رہا ہوں حضورِ والا بہ اِسم اللہ تمام لفظوں میں ہورہا ہے عجب اجالا بہ اِسم اللہ بروزِ محشر اسی کے چہرے پہ ہوگا ایمان کا
میرا خدا بھی وہی ہے تیرا خدا بھی وہی وہ ہے اکیلا صمد سب سے ہے جدا بھی وہی جو پالتا ہے خلائق کو پتھروں میں بھی جو بھولتا
میرے مولا ازل سے تیری رحمت کا سہارا ہے میرا ہر گام ذلت میں میری کوشش خسارہ ہے تیری ہے بادشاہی اس جہاں میں اے میرے مولی میں ہر اک
اِدھر بھی خدا ہے، اُدھر بھی خدا ہے وہ سب سے بڑا ہے، وہ سب سے بڑا ہے شجر میں، ہجر میں، ہنر میں، نظر میں سفر میں، ظفر
Load More










