زخمی دل کو سکوں کا سمندر دیا کلمہِ شکر لب سے ہوا جب ادا مجھ کو رب نے یہ کیسا مقدر دیا جو نہیں مانگا وہ بھی عطا کر دیا
amazing urdu poetry
تیری ناموس پہ صدیق جو وارے جائیں بخت ان کے دو جہانوں میں سنوارے جائیں تو بلا فصل خلیفہ تو وراثت کا امیں تیری نسبت سے ہی عنوان نکھارے جائیں
اللہ کا کرم ہے یہ اللہ کی عطا و تعز من تشا و تذل من تشا اپنا کوئی کمال کہاں مجھ میں ہے بھلا وہ تعز من تشا و تذل
آپ کی ہی رحمت کا دو جہاں پہ سایہ ہے آپ کی اداؤں کو حرز جاں بنایا ہے آپ کی دعاؤں سے دل میں نور پایا ہے اور اس طرح
ارضِ بنگال سے یہ صدا آ گئی میرے گلشن میں بادِ صبا آ گئی خونِ طلبا کی خوشبو سے مہکا چمن سوچا انجام تھا، ابتدا آ گئی دشمنوں کے ستم
نہ آیا ہے نہ آئے گا امام الانبیاء جیسابنایا ہی نہیں رب نے جہاں میں مصطفی جیسا نہ ملتی ہیں کہیں والیل جیسی زلفیں دنیا میںنہ پایا ہے کوئی چہرہ
یہ جو نسبت ہے مجھے حضرتِ عثمانؓ سے ہےیہ کرم ہم پہ نبی کے درِ احسان سے ہے دو لقب جن کو ملے ، نور کا شایان ہے وہیہ شرافت
ایسی جگہ رہوں کہ کسی کو پتہ نہ ہو ہمراز و ہم خیال و کوئی ہمنوا نہ ہو دنیا کی بھیڑ میں سبھی اپنوں کے سنگ ہوں خواہش ہے میرے
ماتھے کی گرہ کھول دے سجدوں کی طلب دےآنکھوں میں ندامت کی نمی آج دے اب دے دنیا کی محبت مجھے مصروف نہ کردےاعمال کی توفیق کی نعمت مجھے رب
نہیں رہیں گے یہ عدو ،سدا رہیں گی مسجدیںخدا کے نام اور کلام سے سجیں گی مسجدیں جہاں پہ میرے پاک باز بیٹوں کا لہو گرااسی ہی خاک پر دوبارہ
Load More










